میرے ملک کے مسلمان

میں اکثر یہ سوچتا ہوں کے ہم سب نے اپنے اوپر ایک ایسا خول چڑھا لیا ہے کے اب ہم اس قابل ہی نہیں رہے کے کسی خبر ،سانحے یا بات کواپنی پسند کا لباس پہناۓ بغیر اس پر یقین کرلیں . ہمارا نظام ہضم ایسا ہوچکا ہے کے جبتک کسی خبر کے ساتھ سازش یا مفاد پرستی کی دوا نہ پی لیں وہ ہضم ہی نہی ہوتی
ابھی چند روز قبل جنید جمشید نےایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں حدیث کا حوالہ دئے بغیر ایک واقعہ بیان کردیا بس پھر کیا تھا کسی بھی نام نہاد عالم نے اس موقع کو گوانا گوارا نہ کیا اورجو جی میں آیا کہ ڈالا ،کسی نے جنید جمشید کو کافر کرار دے کر اپنے یمان کے کامل ہونے کا ثبوت دیا تو کوئی تو اس ڈور میں آگے نکلنے کی زد میں اتنا آگے نکل گیا کے جنید جمشید کی مرحومہ والدہ پر توہمت تک لگا ڈالی .
ہمیشہ سنا تھا کے قانون اندھا ہوتا ہے اب باکی قوانین کا تو پتا نہی پر یہ قانون واقعی اندھا معلوم ہوتا ہے کسی بھی شخص پر توہین مذہب کا الزام لگادیا جاۓ اور بس پھر کیا باکی کام خود بخود ہو جاتا ہے اور مختصر وقت میں معاملہ یہاں تک پھنچ جاتا ہے کے ملزم خود اس بات پر شک میں مبتلا ہوجاتا ہے کے ہاں شاید مجھسے واقعی کوئی جرم سرزد ہوگیا ہے .
اب مجھ جیسا عام آدمی جو پہلے ہی دینی معاملات کو ملا کی ملکیت سمجھ کر اسپر کسی قسم کا اعتراض کرنے کی جسارت تک نہی کر پاتا، اس معاشرے میں غلط کو غلط کہنے کی ہمّت کہاں سے لائیگا .
جنید جمشید نے جس واقعے کا ذکر کیا وہ صحیح بخاری میں موجود ہے،اب میری ناتواں سوچ اس معاملے کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ آیا ہماری احادیث کی مستند کتب میں بھی کچھ ایسا موجود ہو سکتا ہے جو توہین مذہب کے زمرےمیں آتا ہو ،گویا مذہب کے پرچار کا ذریع ہی مذہب کی رسوائی کا سبب ہے؟ .یا کہیں ایسا تو نہیں کے ہم ہمیشہ کی طرح اس معاملے کو بھی دلچسپ اور پراسرار بنانا چاہتے ہیں اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کردوسروں کو نیچا دکھانے کا یہ موقع ہاتھ سے نہی جانے دینا چاہت؟.

“صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 632 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 3
یحیی بن یحیی ، ابوذکریا، سلیمان بن بلال، یحیی بن سعید، قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی تھیں کہ ہائے میرا سر! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش تو اسی درد میں مبتلارہ کر مرجاتی اور میں تیرے لئے دعائے مغفرت کرتا اور دعا کرتا! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا افسوس بخدا میرا تو خیال ہے کہ آپ میرا مرنا پسند کرتے ہیں اگر ایسا ہوا تو اسکے دوسرے ہی دن آپ اپنے دوسری بیویوں کے ساتھ رات گزاریں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں خود بھی درد سر میں مبتلا ہوں اور میں نے چاہا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور ان کو وصیت کروں تاکہ کوئی کنبے والا کچھ کہہ نہ سکے اور نہ کوئی آرزو کرنے والا اس کی آرزو کرسکے پھر میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ دوسرے کی خلافت کو ناپسند کرتا ہے اور مومن ہی اس کو نامنظور نہ کریں گے یا یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دفع کرے گا اور مسلمان بھی پسند نہ کریں گے۔”